سعودی عرب بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز 90 برس کی عمر میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب انتقال کر گئے تھے اور ان کی جگہ ان کے 79 سالہ سوتیلے بھائی سلمان نے بادشاہت سنبھالی ہے۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دو برس قبل شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔ شاہ عبداللہ کے ایک اور سوتیلے بھائی شہزادہ مقرن کو نیا ولی عہد بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق نئے بادشاہ نے شاہی خاندان کی وفادار کونسل سے کہا ہے کہ وہ شہزادہ مقرن کو ولی عہد مقرر ہونے کی توثیق کرے۔
شاہ عبداللہ کو جمعہ کی نماز کے بعد ریاض میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف، مصر کے وزیر اعظم ابراہیم ملہب، سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان موجود تھے۔
عبداللہ، سلمان اور مقرن تینوں اب سعود کے نام سے مشہور مرحوم شاہ عبدالعزیز کے بیٹے ہیں جن کا انتقال 1953 میں ہوا تھا۔
شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی سعودی عرب کے وزیر داخلہ پرنس محمد بن نائف کو نائب ولی عہد اور اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ملک کا نیا وزیر دفاع مقرر کیا ہے۔
انھوں نے تیل، خزانہ اور خارجہ امور سمیت دیگر وزارتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
وہابی فرقے کی مذہبی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شاہ عبداللہ کو جمعے کی نماز کے بعد ایک بے نشان قبر میں دفنایا گیا۔
شاہ عبداللہ کئی ہفتے سے علیل تھے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے انھیں کئی روز سے ٹیوب کے ذریعے سانس دلایا جا رہا تھا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف سمیت عالمی رہنماؤں نے سعودی شاہ کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر اوباما نے شاہ عبداللہ کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے اُن کی خدمات کو سراہا جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ قیام امن کے لیے شاہ عبداللہ کی کوششوں کی وجہ سے انھیں ہمشہ یاد رکھا جائے گا۔










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔